IQNA سے خطاب کرتے ہوئے، لبنان میں فلسطینی ڈار الفتہ کے سیکرٹری جنرل شیخ محمد سلیم الاباببیدی نے کہا ہے کہ کانفرنس میں مختلف ممالک سے شیعہ اور سنی عالم و دانشوروں کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم امت یہ نہیں ہے کہ دشمن صحافی کیا ہے.

تہران میں 32 ویں بین الاقوامی اسلامی اتحاد کے اختتامی تقریب کو خطاب کرتے ہوئے، علی لاریجانی نے کہا کہ ایران ایران کو کبھی بھی مسلم اتحاد کے فروغ کے لۓ کام نہیں کرسکتا.

Archive
Archive
Archive

موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی مقام معظم رہبری کی نظارت میں سر گرم عمل ہے اور اس کا رئیس اور مدیر آپ ہی کی جانب سے معین ہوتا ہے. درحال حاضر موجودہ وقت میں یہ اہم ذمہ داری رہبر انقلاب کی جانب سے فیلسوف و حکیم فرزانہ حضرت استاد علامہ محمد تقی مصباح یزدی کو دی گئی ہے. آپ ایک فقیہ، مفسر، فلسفی، ژرف اندیش متفکر، آئندہ نگر اوراسلامی مسائل میں صاحب نظر ہونے کے عنوان سے گذشتہ کئی دہائیوں سے حوزات علمیہ کے مسائل و مشکلات اور معاشرہ و اسلامی نظام کو بہت دقیق دور پر دیکھا اور اس کے لئے منشورات و منصوبے پیش کئے ان میں سے منجملہ موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی کا نام لیا جاسکتا ہے اور اس کی ہدایت و مدیریت اور کمیت و کیفیت کے لحاظ سے اس کی توسیع کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے.
Read more
 

موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی خداوند تعالی پر توکل کرتے ہوئے اور نظام مقدس جمہوری اسلامی ایران کی سیاست کو متحقق کرنے کے لئے اور موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ کی کمیٹی کے منشورات کے نفاذ کے لئے اور جمہوری اسلامی کے علمی منصوبوں کو عملی کرنے کے لئے اور ایران کے ۱۴۰۴سند اور ایکٹ کے تحت حوزوی کردار کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سافٹ وئر کی دنیا اور علمی تحرک کے تحقق کے لئے اور اپنے عظیم علمی پشت پناہی پر بھروسہ کرتے ہوئے معارف اسلامی کو وسیع پیمانے پر دنیا کے تمام گوشہ و کنار میں پھیلانے کے لئے اور تعلیمی تمام تر امکانات سے مجازی فضا میں دور سے استفادہ پہونچانے کے لئے مجازی و نیم حضوری ثقافت و اسلامی معارف مرکز تعلیم کو ۶ اسفند ۱۳۸۵ہجری شمسی بمطابق ولادت امام موسی کاظم علیہ السلام اس موسسہ کے رئیس علامہ آیت اللہ مصباح یزدی کے ذریعہ تاسیس ہوا. موسسہ کے درخشندہ ماضی کے پیش نظر اور مذکورہ علمی پشت پناہی کے تحت اس موسسہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ بہت ہی کم وقت میں معارف اسلامی کے پیاسوں کو پوری دنیا میں یہ موقع فراہم کرسکے.
Read more